My Computer Learning Journey in 2014 | My Best Teacher Ustad Ajit Kumar
Photo Gallery
2014 میں کمپیوٹر کورس کا آغاز
میری زندگی میں کمپیوٹر سیکھنے کا سفر 2014 میں شروع ہوا، جب میں نے جھل مگسی میں استاد اجیت کمار صاحب کے پاس کمپیوٹر کورس کے لیے داخلہ لیا۔ اس وقت کمپیوٹر سیکھنا میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ مجھے کمپیوٹر کے بارے میں بہت کچھ جاننا تھا اور میں چاہتا تھا کہ کمپیوٹر پر کام کرنے کے تمام بنیادی طریقے سیکھوں۔
استاد اجیت کمار صاحب نے مجھے کمپیوٹر کی بنیادی معلومات سکھانا شروع کیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمپیوٹر میں اِن پٹ (Input) کیا ہوتا ہے، آؤٹ پٹ (Output) کیا ہوتی ہے اور کمپیوٹر کس طرح کام کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ میں کمپیوٹر کے بنیادی اصول سمجھنے لگا اور میری دلچسپی بڑھتی گئی۔
مائیکروسافٹ آفس، فوٹوشاپ اور ایڈیٹنگ سیکھنا
کمپیوٹر کورس کے دوران استاد اجیت کمار صاحب نے مجھے مائیکروسافٹ آفس (Microsoft Office)، فوٹوشاپ (Photoshop)، ایڈیٹنگ اور مختلف قسم کی فائلیں بنانے کا طریقہ سکھایا۔ ان کی رہنمائی میں میں نے سیکھا کہ کمپیوٹر پر دستاویزات کیسے بنائی جاتی ہیں، فائلوں پر کام کیسے کیا جاتا ہے اور مختلف سافٹ ویئر کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ میرے لیے سیکھنے کا ایک اہم مرحلہ تھا، کیونکہ میں صرف کمپیوٹر چلانا ہی نہیں بلکہ اس پر مختلف کام خود کرنا بھی سیکھ رہا تھا۔
گھر پر اپنے Core 2 Duo کمپیوٹر پر پریکٹس
اس زمانے میں میرے گھر پر بھی ایک پرانا کمپیوٹر موجود تھا، جو Core 2 Duo پروسیسر پر مبنی تھا۔ میں استاد سے کورس لینے کے بعد گھر آتا تو اپنے کمپیوٹر پر بھی کام کرتا اور سیکھی ہوئی چیزوں کی پریکٹس جاری رکھتا۔
میرا خیال تھا کہ صرف کلاس میں سیکھنا کافی نہیں، بلکہ کسی بھی کام میں مہارت حاصل کرنے کے لیے خود بھی محنت کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے میں گھر پر بھی کمپیوٹر کے مختلف کام کرتا رہتا تھا۔ اس مسلسل مشق نے مجھے کمپیوٹر کے استعمال کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد دی۔
کی بورڈ ٹائپنگ سیکھنے کا تجربہ
استاد اجیت کمار صاحب نے مجھے ٹائپنگ سیکھنے کے لیے ایک سافٹ ویئر بھی دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کی بورڈ پر انگلیاں کس طرح رکھی جاتی ہیں، کون سی انگلی کس جگہ استعمال ہوتی ہے اور درست طریقے سے ٹائپنگ کیسے کی جاتی ہے۔
میں نے اس سافٹ ویئر کی مدد سے ٹائپنگ کی مشق شروع کی۔ آہستہ آہستہ مجھے سمجھ آنے لگا کہ کی بورڈ پر انگلیوں کی درست پوزیشن اور مسلسل مشق کتنی اہم ہوتی ہے۔ اس مشق نے مجھے کمپیوٹر پر زیادہ اعتماد کے ساتھ کام کرنے میں مدد دی۔
ونڈوز اور ڈرائیورز کے بارے میں میری یادیں
جب میں کمپیوٹر سیکھ رہا تھا تو ونڈوز اور کمپیوٹر کے مختلف سافٹ ویئر کے بارے میں بھی میری دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس زمانے میں میں نے ونڈوز انسٹال کرنے، کمپیوٹر کو چلانے اور اس کے ضروری ڈرائیورز کے بارے میں سیکھا۔
مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں HP سے متعلق ونڈوز کی انسٹالیشن اور ڈرائیورز کے مسائل پر بھی کام کرتا تھا۔ کچھ انسٹالیشنز کے بعد ڈرائیورز الگ سے انسٹال کرنے پڑتے تھے، جبکہ ونڈوز کے ایک دوسرے ورژن، جسے میں ونڈوز گولڈ کے نام سے یاد کرتا ہوں، میں ضروری ڈرائیورز پہلے سے موجود ہوتے تھے۔
اس طرح کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ صرف ونڈوز انسٹال کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ کمپیوٹر کے تمام ضروری حصوں کو درست طریقے سے چلانے کے لیے ڈرائیورز اور دوسرے سافٹ ویئر کی اہمیت بھی ہوتی ہے۔
استاد اجیت کمار صاحب — میرے استاد اور ہمارے خاص پڑوسی
استاد اجیت کمار صاحب صرف میرے کمپیوٹر کے استاد ہی نہیں، بلکہ ہمارے خاص پڑوسی بھی ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا تعلق صرف تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے خاندانوں کے درمیان بھی ایک پرانا اور اچھا تعلق رہا ہے۔
ہمارے بڑے بزرگوں کے ساتھ بھی استاد اجیت کمار صاحب کے بزرگوں کا اچھا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ دونوں خاندانوں کے درمیان میل جول اور اچھے تعلقات رہے ہیں۔ یہ تعلق صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہا، بلکہ آج بھی استاد اجیت کمار صاحب کے ساتھ ہمارا اچھا اٹھنا بیٹھنا اور دوستانہ تعلق قائم ہے۔
میرے لیے یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے کہ جس شخص سے میں نے کمپیوٹر سیکھا، وہ ہمارے قریبی پڑوسی بھی ہیں اور ہمارے خاندان کے ساتھ بھی ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ میں استاد اجیت کمار صاحب کی عزت کرتا ہوں اور انہیں اپنے خاص پڑوسیوں میں شمار کرتا ہوں۔
اسی وجہ سے ان کے ساتھ میری یادیں صرف کمپیوٹر کورس تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے خاندانوں کے دیرینہ تعلقات، باہمی احترام اور میل جول سے بھی وابستہ ہیں۔
کورس کے بعد بھی استاد اجیت کمار صاحب سے تعلق
وقت گزرتا گیا اور میں نے کمپیوٹر کورس کے دوران بہت سی چیزیں سیکھیں۔ کورس مکمل کرنے کے بعد بھی استاد اجیت کمار صاحب کے ساتھ میرا رابطہ اور میل جول جاری رہا۔ ان سے حاصل ہونے والی رہنمائی میرے لیے بہت اہم تھی۔
میری زندگی میں بہت سے لوگ آئے، لیکن کمپیوٹر سیکھنے کے حوالے سے استاد اجیت کمار صاحب کا مقام ہمیشہ خاص رہے گا۔ میں انہیں اپنی زندگی کے بہترین اساتذہ میں شمار کرتا ہوں، کیونکہ انہوں نے مجھے کمپیوٹر کی بنیادی معلومات دیں اور عملی طور پر کام کرنا سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔
میرے نزدیک ایک اچھے استاد کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ اپنے شاگرد کو کتابی علم دے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اسے عملی زندگی میں کام آنے والی مہارتیں سکھائے۔ استاد اجیت کمار صاحب کے ساتھ میرا تجربہ اسی بات کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
میرے بیٹے کے استاد بھی رہے اجیت کمار صاحب
استاد اجیت کمار صاحب کے ساتھ میرا تعلق صرف میرے اپنے کمپیوٹر کورس تک محدود نہیں رہا۔ وہ میرے بیٹے کو بھی ٹیوشن پڑھاتے رہے ہیں۔
میرے بیٹے کو انگلش میں ٹرین کرنے میں بھی استاد اجیت کمار صاحب کا اہم کردار رہا۔ میرے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ جس استاد سے میں نے خود سیکھا، اسی استاد سے میرے بیٹے کو بھی سیکھنے کا موقع ملا۔
یہ میرے لیے ایک یادگار بات ہے کہ استاد اجیت کمار صاحب میری زندگی کے تعلیمی سفر کا بھی حصہ رہے اور میرے بیٹے کی تعلیم و تربیت سے بھی وابستہ رہے۔
استاد اجیت کمار صاحب کے نام ایک خراجِ تحسین
آج جب میں اپنے ماضی کو یاد کرتا ہوں تو 2014 میں کمپیوٹر کورس کے لیے داخلہ لینا، کلاس میں نئی چیزیں سیکھنا، گھر آ کر اپنے Core 2 Duo کمپیوٹر پر پریکٹس کرنا، ٹائپنگ سیکھنا اور مختلف سافٹ ویئر پر کام کرنا، یہ سب یادیں میرے لیے بہت اہم ہیں۔
ان یادوں کے ساتھ استاد اجیت کمار صاحب کا نام ہمیشہ جڑا رہے گا۔ میں ان کی محنت، رہنمائی اور اپنے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
میرے لیے وہ صرف کمپیوٹر کے استاد نہیں تھے، بلکہ میری زندگی کے اس سفر کا ایک اہم حصہ تھے جس میں میں نے نئی مہارتیں حاصل کیں اور کمپیوٹر کی دنیا کو قریب سے سمجھنا شروع کیا۔ ہمارے پڑوسی ہونے اور خاندانوں کے پرانے تعلقات کی وجہ سے ان کے ساتھ میری یادیں مزید اہمیت رکھتی ہیں۔
میں دل سے استاد اجیت کمار صاحب کی عزت کرتا ہوں اور انہیں اپنی زندگی کا بہترین کمپیوٹر استاد سمجھتا ہوں۔ ان سے حاصل ہونے والی تعلیم، رہنمائی اور ان کے ساتھ وابستہ یادیں میرے لیے ہمیشہ قیمتی رہیں گی۔
میری زندگی کی کہانی ابھی جاری ہے
یہ میری زندگی کی کہانی کا ایک حصہ ہے۔ میرے کمپیوٹر سیکھنے کے سفر کی یہ یادیں ابھی یہاں تک ہیں۔ ان شاء اللہ، اگلے حصے میں اپنی زندگی کے مزید واقعات، تجربات اور یادیں بیان کروں گا۔
تحریر: نور احمد مغلانی مگسی
0 Comments